3 Responses to “کتاب بازار ۔ “کلرک سے کلرک تک ” پر راشد اشرف کا تبصرە”

  1. Rashid Ashraf November 26, 2012 at 5:40 am #

    جزاک اللہ۔
    زیر نظر ویب سائٹ کا اجراء ایک نہایت اہم اور مستحسن عمل ہے۔ میری جانب سے مبارکباد قبول کیجیے۔ شاہ صاحب کی خودنوشت کے سرورق کو راقم الحروف نے انٹرنیٹ پر دستیاب خودنوشت آپ بیتیوں کے دنیا کے سب سے بڑے ریکارڈ کا حصہ بنا دیا ہے، سرورق کا سافٹ لنک یہ ہے:
    http://www.wadi-e-urdu.com/wp-content/uploads/2011/02/01.jpg

    شاہ صاحب کی دیگر کتابوں کی سافٹ فائلز کی دستیابی ان لوگوں کے لیے نہایت کارآمد ثابت ہوگی جو دنیا کے مختلف گوشوں میں مقیم ہیں اور جن کی رسائی ان کتب تک نہیں ہے۔

    راقم کا زیر نظر کالم شاہ صاحب کو ایک نوآزمودہ کار لکھنے والے کی جانب سے ایک چھوٹا سا خراج عقیدت ہے۔ اسے یہاں شامل کرکے آپ نے خاکسار کی عزت افزائی کی ہے، بیحد شکریہ۔ کتاب کے ناشر اور اپنے کرم فرما جناب سید معراج جامی کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    خیر اندیش
    راشد اشرف
    کراچی سے

  2. MOHAMMED ANEESUDDIN November 26, 2012 at 12:28 pm #

    Dear Rashid…. Khusis Link k liye inti-high mamnoon hon. soft copy main ne download karli hai. Jazak ALLAH Khaira.

    Mohammed Aneesuddin
    Khamgaon (India)

  3. Rashid Ashraf May 22, 2014 at 9:32 am #

    محترم تسنیم صاحب، آداب

    ایک خبر ہے۔ آج مجھے علی گڑھ میں قیام پذیر اپنے کرم فرما پروفیسر اطہر صدیقی صاحب سے “بلبلیں نواب کی” کے مصنف موسی رضا کا برقی پتہ ملا ہے اور ساتھ ہی ان کی ایک عدد تصویر بھی۔ موسی صاحب سے رابطہ کررہا ہوں جس میں یقینا فاروقی صاحب کا تذکرہ بھی رہے گا۔ نیز اس ویب سائٹ کے بارے میں بھی آگاہ کروں گا۔

    موسی رضا، چنائی تامل ناڈو میں قیام پذیر ہیں۔

    راشد
    بائیس مئی ، 2014